بسم الله الرحمن الرحيم
السلام علیکم ورحـــــــمةالله وبركآته
چھوٹی سی نیکی بڑی نیکی کی توفیق دیتی ھے اور چھوٹا سا گناہ بڑے گناہ کا حوصلہ دیتا ھے ۔ لہذا اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں کو کبھی غیر اہم نہ سمجھیں ۔ چھوٹی چھوٹی نیکیاں کرنا شروع کریں۔ آپ جلد بڑی نیکیاں کرنے لگیں گے۔ چھوٹے چھوٹے گناہ چھوڑنا شروع کریں ۔ آپ جلد بڑے گناہوں سے چھٹکارا پائیں گے۔ کوشش شرط ھے۔
اللہ تعالی آپ کو ایسی شناخت، عزت اور ہمت عطا فرمائے کہ آپ کا شمار صاحب نصیب، صاحب شعور اور خیر/ امن اور سلامتی کا باعث بننے والے افراد میں ہو اور صرف خیر ہی آپ کا مقدر ہو:
اے اللہ پاک ہمیں نمازیں باجماعت اور روزانہ قرآن مجید پڑھنے اور سمجھ کر اس پر عمل کرنے،
کثرت سے درود شریف اور استغفار پڑھنے کی توفیق عطا فرما ۔
آمین ثم آمین
شکر ہے تیرا خدایا میں تو اس قابل نہ تھا۔۔
تو نے اپنے گھر بلایا میں تو اس قابل نہ تھا۔۔
اپنا دیوانہ بنایا میں تو اس قابل نہ تھا۔۔
گرد کعبے کے پھرایا میں تو اس قابل نہ تھا۔۔
مدتوں کی پیاس کو سیراب تو نے کر دیا۔۔
جام زم زم کا پلایا میں تو اس قابل نہ تھا۔۔
بھا گیا میری زباں کو ذکر ” الا اللہ ” کا۔۔
یہ سبق کس نے پڑھایا میں تو اس قابل نہ تھا۔۔
خاص اپنے در کا رکھا تو نے اے مولا مجھے۔۔
یوں نہیں در در پھرایا میں تو اس قابل نہ تھا۔۔
میری کوتاہی کہ تیری یاد سے غافل رہا۔۔
پر نہیں تو نے بھلایا میں تو اس قابل نہ تھا۔۔
میں کہ تھا بے راہ تو نے دستگیری آپ کی۔۔
تو ہی مجھ کو راہ پہ لایا میں تو اس قابل نہ تھا۔۔
تیری رحمت تیری شفقت سے ہوا مجھ کو نصیب۔۔
گنبدِ خضرا کا سایہ میں تو اس قابل نہ تھا۔۔
بارگاہِ سیدِ کونین ّ میں آ کر نفیس۔۔
سوچتا ہوں کیسے آیا میں تو اس قابل نہ تھا۔۔
وش روم استعمال کرتے وقت اذان سننے توکیا کرنا چاہیے
جی واش روم استعمال کرتےوقت
اذان سنیں تواذان کاجواب نہ دیں کہ واش روم میں بلاضرورت کلام کرنامنع ہےبلخصوص دینی کلمات اداکرنابدرجہ اولی منع ہےاس لیےواش روم استعمال کرتےوقت اذان سنیں تواذان کاجواب نہ دیں
فتاوی قاضی خاں میں ہے
*یکرہ ان یقرأ القراٰن فی الحمام لانہ موضع النجاسات ولا یقرأ فی بیت الخلاء*
عینی:مکروہ ہے کہ حمام میں قرآن مجید پڑھا جائے اس لئے کہ وہ محل نجاست ہے۔ اور بیت الخلاء (لیٹرین) میں بھی قرآن مجید نہ پڑھا جائے۔
*(فتاوی قاضی خاں کتاب الصلٰوۃ فصل فی قرأۃ القرآن جلد1صفحہ78مطبع نولکشور لکھنؤ )*
*رسالہ فیضان اذان میں ہے*
اذان کے دوران استنجاخانے جانا بہتر نہیں، کیونکہ وہاں اذان کا جواب نہ دے سکے گا، اور یہ ہہت بڑے ثواب سے محرومی ہے البتہ شدید حاجت ہو یا جماعت جانے کا اندیشہ ہو تو چلا جائے ۔
*(فیضان اذان صفحہ13مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*واللہ و رسولہ اعلم بالصواب*
Sanu 36
Delete Comment
Are you sure that you want to delete this comment ?