یہ سوال ایک بہت اہم فلسفیانہ اور روحانی نقطہ نظر کو چھوتا ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ دنیا دھوکہ ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے، اور اس کی چیزیں بھی عارضی ہیں۔ اسلام اور دیگر مذاہب میں یہ کہا گیا ہے کہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے اور آخرت کی تیاری کے لیے ہمیں یہاں بھیجا گیا ہے۔
لیکن اس کے باوجود، ہم دنیا پر اعتبار کرتے ہیں کیونکہ ہمیں یہاں زندگی گزارنی ہے، کام کرنا ہے، اور اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہیں۔ اس اعتبار کا مطلب ہے کہ ہم دنیا میں موجود لوگوں، رشتوں، اور معاملات کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور ان سے جڑے رہتے ہیں۔
یہ اعتبار اس بات کا بھی عکاس ہے کہ ہم ایک مثبت زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ سب عارضی ہے۔ ہمیں دنیا میں رہتے ہوئے اچھے کام کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، دوسروں کے ساتھ نیک سلوک کرنا چاہیے، اور اپنے ایمان کو مضبوط رکھنا چاہیے۔
لہٰذا، دنیا کی حقیقت کو سمجھتے ہوئے بھی، ہم یہاں اپنی زندگی کو بہتر بنانے اور دوسروں کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

Anqa naveed
Delete Comment
Are you sure that you want to delete this comment ?